!علمائے دین کے لیے ایک لمحہء فکر

موجودہ دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ اور جدید ذرائع امکاناتِ فطرت کا استعمال ہے، باوجود اسکے ہمارا سرمایہِ فکر روبزوال اور انحطاط کا شکار ہے۔ جبکہ ہمارے فقہائے عظام نے مسدود راہ کو ہموار کر کے روز روشن کی طرح صاف کر دیاکہ ’فتویٰ زمانے کے بدلنے سے بدل جاتا ہے‘۔

اللہ کی کتاب بندوں کے حق میں اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ لھذٰا باہمی نزاعات میں اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق اپنے حقوق و معاملات کا فیصلہ کریں۔ کیونکہ، جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئ کتاب قران مجید کے مطابق (حقوق و معاملات کا) فیصلہ نہ کریں وہی لوگ منکر ہیں، ظالم ہیں، فاسق ہیں۔ (القران ۔ ۵:۴۴،۴۵،۴۷) قران مجید انسانیت کی ترقی کی راہ میں مانع نہیں معاون ہے۔ اس لیے اللہ کی بات اللہ ہی کی کتاب سمجھا سکتی ہے۔

مجھے یہ کہتے ہوئے عار نہیں محسوس ہو رہا ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کا مخصوص طبقہ بہت حد تک اس ملکِ ہندوستان میں مسلمان خواتین کی بدحالی کا ذمہ دارہے۔ سوشل میڈیا، ای میل، مسیج اور فون وغیرہ کے ذریعے موجودہ حالات میں طلاق کا چلن رائج ہے اور ان تمام رائج طریقوں کو دین اسلام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ بھی ان طریقوں کو تسلیم کرتا ہے حالانکہ اسلام سے ان رائج طریقوں کا دور کا واسطہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ جس طرح نکاح کے لیے دو معتبر گواہ کا ہونا لازم ہے اسی طرح علیحدگی کی صورت میں دو معتبر اشخاص کا ہونا ضروری ہے۔ ((القران۔ ۶۵:۲) جس شرط کے ساتھ نکاح ہے اسی شرط کے ساتھ علیحدگی بھی ہے۔ چنانچہ سوشل میڈیا، ای میل، مسیج اور فون وغیرہ کے ذریعے طلاق کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے۔

ایک ساتھ تین طلاق دینے والوں کا سماجی بائیکاٹ کرنے کے تعلق سے جیسا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنا حلف نامہ سپریم کورٹ میں داخل کیا ہے وہ پرسنل لاء بورڈ کے دائرہ اختیارمیں ہے ہی نہیں! حکم جب ہی کسی کو دے سکتے ہیں جبکہ آپ کی پوزیشن ’حکم‘ دینے کی ہو۔ کسی چیز کا حکم دینا یا کسی چیز کی ممانعت کرنی صرف حاکمانہ اقتدار ہی سے ممکن ہے۔ اسی حلف نامہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نکاح پڑھانے والے حضرات لڑکی اور لڑکے دونوں کو یہ بھی مشورہ دیں گے کہ وہ نکاح نامہ میں ایک نشست میں تین طلاق کو خارج کرنے والی شرط بھی شامل کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ کوئی طلاق ثلاثہ کو خارج کرنے والی شق لکھنے سے رہ جائے اور میاں یکبارگی تین طلاق دے دے تو ایسی صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

قران مجید میں سرے سے طلاق ثلاثہ مفقود ہے۔ نہ اشارۃً نہ کنایۃً اور واضح طور پر الطّلاق مرتان کا اعلان ہے۔ (القران ۔ ۲:۲۲۹) اس لیے یوں کہا جائے کہ وجود غیر معدوم ہے۔ طلاق شریعت کا عادلانہ نظام اور ازدواجی زندگی کی مشکلات کا منصفانہ حل ہے اگرمنشاء الٰہی کا پاس رکھتے ہوئے دی جائے۔

محترم علما ئے کر ام: اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے کیوں ڈھا رہے ہیں؟(القران۔ ۵۹:۲) خواتین اسلام کے جو جا ئز حقوق ہیں کیوں دینے سے احتراز کر رہے ہیں۔ ہمارے اگلوں نے جو کچھ کیا وہ ان کے سامنے آئگا اور ہم جو کچھ کریں گے وہ ہمارے سامنے آئگا ۔ (القران ۔ ۲:۱۴۱) اتنی واضح حقیقتوں کے بعد بھی حق انصاف کا ثبوت نہ دینا کیسی دانشمندی ہے

مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی
چیرمین۔اطہر بلڈ بینک، سولاپور

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s