!تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب

مورخہ 6 جون 2017 صفحہ 11کے انقلاب باب (متفرقات) میں جلگاؤں پترکار بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند جلگاؤں کے ضلع صدر عبدالسمیع، جماعت اسلامی کی نوجوانوں کی شاخ یوتھ ونگ کے سیکریٹری محمد سہیل ، خواتین شاخ کی امیر نسرین محمود خان وغیرہ نے مسلم پرسنل لاء کے متعلق واضح کیا کہ انگریزوں کے دور حکومت میں مسلمانوں کے مطالبے پر 1937 میں شریعت اپلیکیشن ایکٹ منظور کیا گیاتھا۔ اس کے مطابق نکاح، طلاق، خلع، ظہار، فسخ نکاح، حق پرورش، ولایت، میراث، وصیت، ہبہ اور شفعہ کے معاملات میں اگر فریقین مسلمان ہوں تو شریعت کے مطابق ان کا فیصلہ ہوگا۔خواہ ان کا عرف و رواج کچھ ہونیز قانون شریعت کو رواج پر بالادستی ہوگی۔ دستور ہند کے باب 3 (بنیادی حقوق) میں عقیدہ، مذہب اور ضمیر کی آزادی کو ایک بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ یہ دفعہ دراصل مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔

تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب

گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف

یہ تمام دفعات مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہیںآمناً صدقناً قبول ہے، تسلیم ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ شریعت کسے کہتے ہیں اور شریعت کے اصول کیا ہیں؟ کیونکہ مروجہ تین طلاق کے طریقوں کو لے کر مہینوں شورشرابہ رہا (جس پر فیصلہ بلاخر17 مئی2017 کو چیف جسٹس جے ایس کیہر کی صدارت والی پانچ رکنی آیئنی بینچ میں محفوظ ہو گیا۔)  اسکی گرماہٹ شہروں سے لے کر دیہاتوں تک پہنچی اور سماج کے عقلاء ، دانشمند اور باشعور طبقہ کو گرما گئی۔ (جسکو نامہ نگار نے کچھ باشعور افراد کو غلط فہمیوں کے نرغے میں جکڑے ہوئے لکھا ہے۔)

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج تعلیم و ترقی کے میدان میں خواتین مردوں کو پیچھے چھوڑ چکی ہیں باوجود اسکے ظلم و جبر سے انہیں دوچار ہونا پڑتا ہے جو کبھی دور جہالت کا خاصہ تھا۔ ان کی جائز مانگیں جو ان کا حق ہے وہ اس سے محروم ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنے کے بجائے تضحیک کی جاتی ہے اور وہ اپنے گھروں میں سسکتی رہتی ہیں۔ اگر کسی صاحب خرد نے ان خواتین کی وکالت کی تو اسے سماج حد درجہ احمق گردانتا ہے۔

اسلام کی تعلیمات محکم ہیں، ٹھوس ہیں، انسانی فکر سے بالاتر ہے۔ مگر ہمارے علماء نے طلاق بلکنایہ وغیرہ قائم کر کے طلاق کے بیسوں صیغے نکال کر رکھ دیئے اور ایسا الجھاؤ پیدا کر دیا گیا کہ ممسوسہ، غیر ممسوسہ، مختلعہ کے اندر فرق کرنا محال ہو گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ سر راہ واویلا مچایا گیا جسکی دھوم ہر کس و ناکس نے سنااور لطف اندوز ہونے کے سوا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا۔

قران مجید کی رو سے ہر وہ طلاق جس کے بعدمطلقہ پر عدت فرض ہووہ امساکی یعنی رجعی ہی ہوتی ہے۔ اور غیر ممسوسہ یا مختلعہ کے لئے ازروئے قران عدت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بائنہ و مغلظہ وغیرہ جتنی طلاقیں فقہاء نے اپنی کتابوں میں لکھی ہیں ان میں سے کوئی بھی طلاق قران سے ثابت نہیں۔

قرا ن نے دو طلاقوں کی تعین کر کے حد بندی کر دی۔ ایلعب بکتاب اللہ (اللہ کی کتاب سے کھلواڑ کرتے ہو) سے تین طلاق کو ثابت کرنے کی سعی لا حاصل کرتے ہیں جبکہ قران مجید میں تین طلاقوں کا ذکر ہی نہیں! محدثین خود فرماتے ہیں کہ عہد نبوی و عہد صدیقی میں برابر اور عہد فاروق میں بھی دو سال تک تین طلاق رجعی قرار دی جاتی تھیں۔ حضرت عمر فاروق نے دو سال کے بعد جاہلیت والی تین طلاق کا حکم بطور سزا عائد کیا تھا۔ یہ عمر فاروق کاایک اجتہاد تھاجو ہمارے فقہاء پر تین طلاق کا بھوت بن کر اس طرح مسلط ہو گئی کہ شریعت اسلامیہ پر رواج کی بالادستی ہو گئی جو کہ شریعت اپلیکیشن ایکٹ کے خلاف ہے اور ضمیر کی آزادی جو دستور ہند کے باب 3 کے تحت خواتین اسلام کا بنیادی حق ہے کو چھیننے کے مترادف ہے۔ مسلم پرسنل لاء کی جگہ غیر اسلامی لاء نافذ ہو گیا جسے مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کی ضمانت کے طور پر پیش کیا گیا۔

 

مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی

(بانی اور چیرمین ۔ اطہر بلڈ بینک اور مسجد السلام، سولاپور)

 

Thanks for the Article. Read it and this explanation appeals me that indeed our ulema’s have made a mockery of triple talaq. May Allah take rightful work from Maulana Shahabuddin and bless him with good health and best of the rewards in the hereafter.

Abdul Shakoor Sayyed

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s